Add To collaction

15-Sep-2023 لیکھنی کی کہانی -

" جناح ٹرمینل"


نومبر کا پہلا ہفتہ سال 2022 میرے لیے انتہائی اذیت ناک دن تھے آج بھی جب کبھی مجھے وہ لمحے یاد آتے ہیں تو میری روح کانپ جاتی ہے ۔منگل کا دن تھا  بارش سے موسم قدرے سرد ہو چکا تھا۔ میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا سرد ہوا سے محظوظ ہو رہا تھا  موبائل کی گھنٹی بجی  سکرین پر میسج کے ساتھ اس کا نام نمودار ہوا تو دل باغ باغ ہونے لگا۔سوری یار میرے سر میں درد تھا صبح سے تو میں دوائی لے کر سو گئی تھی ابھی اٹھی تو تمہارے اتنے میسجز آئے ہوئے تھے اس نے میری شکائیتوں پر وضاحت دینے کی کوشش کی۔ اس کا یہ میسج تھا کہ میرے سارے گلے ساری ناراضی ہوا ہو گئی اور اس کی فکر ہونے لگی ۔دوائی لی؟ تم اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے استفسار کیا۔ ہاں لی ہے یار مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میرے گلاسز ٹوٹ گئے ہیں اور اس وجہ سے یہ سر کا درد جھیلنا پڑ رہا ہے۔تم نمبر بتاؤ میں بنوا لاؤںگا۔آہاں!! بتا ہی نہ دوں میں تمہیں نمبر!! اس نے تمسخر اڑاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ۔اچھا یار مجھے نہیں بتانا تو خود بنوا لو لاہور سے بنے بنائے گلاسز مل جائیں گے۔ ایک ہفتے میں  امتحان شروع ہونے والے ہیں اور تم گھر جا رہی ہو ۔نہیں  میں گھر جا کر ہی  بنواؤں گی یار۔ خود دیکھ کر لوں گی جو میری بوتھی پہ سوٹ بھی کرے ساتھ لافٹر ایموجی بھیجا۔میں نے بھی جواب میں لافٹر ری ایکٹ کر دیا ۔اچھا ایک کام کردو بس تم احمد سے پوچھو اس نے گھر جانا ہے اس ویک اینڈ پہ ۔نہیں بھی جانا تو اسے مناؤ پلیز!! مجھے اکیلی ڈر لگتاہے۔  پچھلی دفعہ بھی وین میں مٙیں اکیلی لڑکی تھی اور مجھے اتنی گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔اچھا چلو میں کرتا ہوں بات اگر وہ نہ مانا تو میں خود چھوڑ آؤں گا ۔نہیں!! وہ تو ہمارے شہر کا ہے اس لیے کہہ رہی تھی اور اسکا بھائی کو بتایا تھا اور انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا۔چلو اچھا میں کرتا ہوں اس سے بات ۔میں نے احمد سے بات کی مگر اس نے انکار کر دیا کہ میں امتحانات کے بعد ہی جاؤں گا۔ ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔میں نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔اس دوران لائٹ چلی گئی میرا انٹر نیٹ بند ہوگیا ۔ اس نے سم پہ کال کی مگر میری آواز سن کر بغیر کچھ بولے کال کاٹ دی.مجھے اس رویے پہ تشویش ہوئی ۔کچھ دیر بعد لائٹ آ گئی ۔میں نے اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا ۔اسے نے احمد کو شوخا قرار دیتے ہوئے گفتگو کا اختتام کیا۔شب بخیر کہہ کر میں بھی خواب نگر کی سیر کے لیے نکل پڑا۔صبح معمول کے مطابق فجر پڑھ کر ناشتہ کیا اور بس اسٹاپ پر پہنچ گیا۔اسے روز صبح بس سٹاپ پر  پہنچ کر میسج کرنا میری عادت بن چکی تھی۔ اس سے بات کرتے کرتے دو گھنٹے کا سفر کیسے کٹ جاتا تھا پتہ بھی نہیں چلتا تھا ۔آج صبح وہ آنلائن نہیں تھی اور لاسٹ سین صبح  تین بجے دکھائی دے رہا تھا ۔یہ بہت غیر معمولی بات تھی کیونکہ جب مجھ سے رات کو اسکی بات ہوئی تو اس نے کہا تھا کہ مجھے بہت نیند آ رہی ہے اور  یہ 
"last seen at 3 am"
یہ جملہ مجھے اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔
 دل میں اک ڈر سا بیٹھ گیا بے وجہ۔میں8:30پہ یونیورسٹی پہنچا مگر ابھی تک وہ آفلائن تھی ۔اس نے پہلی کلاس بھی نہیں لی میری گھبراہٹ مزید بڑھنے لگی۔پھر گیارہ بجے اسکا میسج آیا  کہ "میں لیٹ اٹھی ہوں اس لیے کلاس نہیں لی" ساڑھے گیارہ تک یونی آجاؤں گی ۔ اگلی کلاس لوں گی انشاءاللّٰہ ۔پہلے کبھی وہ اتنی دیر تک نہیں سوئی صبح صبح ہی وہ اٹھ جاتی تھی مگر آج سب کچھ عجیب ہو رہا تھا۔ ساڑھے گیارہ وہ یونی پہنچ گئی کلاس میں بیٹھے سب لوگ میم کی طرف متوجہ تھے مگر میں اس چاند نما چہرے کی تعریف و توصیف میں مگن  تھا ۔محبت میں انسان کو محبوب کی ایک جھلک دنیا سے بیگانہ کر دیتی ہے۔میں جب بھی اس کی آنکھوں  میں دیکھتا تھا میرا دل ڈوبنے لگتا تھا ایک عجیب سی ہلچل ہونے لگتی تھی دل میں۔ جیسے سمندر میں طغیانی آ جائے۔کلاس ختم ہوگئی میم حاضری لگا رہی تھیں اسی دوران اسکا میسج آیا کہ بوائز میں سے کسی کا ہاسٹل جناح ٹرمینل کی طرف ہے یاکوئی جاتا ہے اس طرف؟مجھے اندازہ تھا کہ کوئی نہیں جاتا اس طرف مگر اسکی تسئلی کے لیے میں نے سب سے پوچھا مگر  سب بے سود رہا۔کلاس کے بعد میں ایک دوست کے پاس جِم  چلا گیا رستے میں اسے بینک سے واپس آتے دیکھا ۔نکلی نہیں ابھی میں نے میسج کیا ۔نہیں وہ چھوٹے کے لیے چاکلیٹس لی ہوئی تھیں اور میس کا چالان بھی جمع کروانا تھا ۔بس اب سامان لے کر نکل رہی ہوں ۔یار مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پہلے تو بٙجیا ساتھ ہوتی تھی آج پہلی دفعہ اکیلی جارہی ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔کہاں سے جاؤں !مجھے رستے کا بھی کوئی نہیں پتہ۔یار رائیڈ بک کروا لو اوبر سےوہ سیدھا جناح ٹرمینل اتار دے گا؟ نہیں  جناب رائیڈ بڑی سیف ہونی اس میں مجھے اکیلی کو جانا ہڑے گا؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔اچھا پھر ایسا کرتا ہوں میں چھوڑ آتا ہوں تمہیں۔نہیں آپ کے ساتھ نہیں جانا میں نے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی مسئلہ کیا ہے اسے۔ وہ کیوں ضد کر رہی ہے۔اسکی ضد نے مجھے امتحان میں ڈال دیا تھا میں اسے اکیلا بھیج دیتا تو میں خود پریشانی میں مبتلا رہتا اور اگر ساتھ جاتا تو وہ ناراض رہتی خیر میں نے اسے کہا تم ہاسٹل پہنچو میں تمہیں میسج کروں گا تو گیٹ نمبر 2 پہ آ جانا۔اس نے آمادگی ظاہر کی۔ ہم جِم سے فارغ ہوکر گیٹ نمبر 2 کے سامنے ایک ڈھابے پر پلاؤ کھانے بیٹھ گئے۔دوست نے رائیڈ بک کروائی ۔ٹائم 5منٹ کا تھا مگر رکشے والا2منٹ میں ہی وہاں پہنچ گیا میں نے دوست سے کہا میں اسے چھوڑنے جارہا  ہوں۔  میں نے اسے میسج کیا کہ رکشہ  آ گیا ہے تم جلدی سے پہنچو گیٹ پر۔میں 10 منٹ تک انتظار کرتا رہا اس نے رستے میں میسج کیا کہ آپ رہنے دو میں اپنی سائیکالوجی کی دوست کے ساتھ چلی جاؤں گی۔مجھے شدید غصہ آیا ۔یار اب رائیڈ بک کروا چکا ہوں وہ 10منٹ سے ویٹ کر رہا ہے۔کس سے پوچھ کے رائیڈ کروائی آپ نے ؟ آپ ساتھ جائینگے؟ اسکا یہ سوال مجھے بہت پریشان کر رہا تھا ۔ فل حال تم گیٹ پہ آجاؤ دیکھ لیتے ہیں ۔پہلے سوچا کہ اسے اکیلے جانے دوں مگر دل نہیں مانا ایک عجیب سا ڈر اور بے چینی تھی سو میں بھی اسکے ساتھ ہو لیا۔یہ سفر میری پہلی اور آخری ملاقات تھی اس سے۔سارا سفر خاموش بیٹھے گزرا اسکے مزاج میں کوئی روکھا پن نہیں تھا ۔ رکشے سے اترے تو میں اسے وین میں بٹھا کر اسی رکشے والے کے ساتھ ٹھوکر تک واپس آیا۔  رکشےسے اتر کر میں نے میسج کیا کہ"comfortable" 
ہو جس کا ردِّ عمل غیر متوقع تھا ۔مجھے میسج نہ کرنا میرا پہلے بہت دماغ خراب ہے؟ یار ہوا کیا ہے ؟ ایسا کیا کیا میں نے؟ اب مجھے میسج نہ کرنا ورنہ بلاک کردوں گی مگر میرا قصور تو بتاؤ ؟ میسج سین کر کے اس نے بلاک کر دیا ؟ اس کے الفاظ میرے دل کو چھلنی کر گئے۔مجھ پہ ایک قیامت ٹوٹی ۔بوجھل قدموں کے ساتھ وہاں سے رکشہ لیا اور یونی پہنچ گیا۔تھوڑی دیر کیفے میں بیٹھا مگر کہیں سکون نہیں ملا عجیب بیقراری تھی جو میری روح کو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی بے رنگ ہوگئی ہو۔کسی آسیب نے میری خوشیوں کو نہوست میں ڈال دیا ہو ۔زندگی مجھ سے روٹھ گئی ہے۔میں بھاری قدموں کے ساتھ دل پہ ایک بوجھ اور ذہن میں کئی سوال لیے مسجد چلا گیا وضو کر کے ظہر پڑھی مگر افسوس کے خدا کے حضور بھی میں سہی طرح حاضری نہ دے پایا۔  میں سارا دن مسجد میں سویا رہاجاگتے ہی anxiety attacks آنا شروع ہو گئے میں نے لنچ بھی نہیں کیا تھا رات کو گھر آتے ہی سو گیا صبح 10بجے اٹھا ۔جب تک میں سویا رہتا پر سکون رہتا جاگتے ہی مجھےanxiety attacks آنا شروع ہوجاتے تھے۔
پورا ہفتہ میں یونیورسٹی نہیں گیا  ۔میں ایک ذہنی مریض بن چکا تھا ۔ اسکے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے اور روح تڑپ جاتی تھی ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی ڈوب رہی ہے اور میں کسی کال کوٹھڑی میں قید ہوں تنہائی کا سانپ مجھے ڈس رہا ہے اور میری رگوں میں بے سکونی کا زہر بھرتا جا رہا ہے۔

   15
1 Comments

Sarita Shrivastava "Shri"

16-Sep-2023 05:29 AM

👍👍بہت جوب

Reply